4 Motivational Books pack

0 out of 5

2000

کہانیاں انسانی زندگی میں، انسان کی شخصیت سازی میں، کردار سازی میں اور مستقبل کو بگاڑنے یا بنانے میں نمایاں کردار ادا کرتی ہیں۔ بچپن سے لے کر لڑکپن تک مختلف النوع کہانیاں مختلف افراد، اداروں، کتابوں اور بعض دوسرے ذرائع سے ہم تک پہنچتی ہیں۔ہر کہانی اپنے اندر ایک خاص مقصد اور ایک خاص سبق رکھتی ہے۔ اکثر اوقات یہ کہانیاں کسی خاص وقت یا عمر کیلئے مؤثر ہوتی ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ان کا اثراور کردار بظاہر معدوم ہو جاتا ہے مگر ہماری شخصیت کی بنیادوں میں یہ کہانیاں ٹھوس وجود رکھتی ہیں۔ مثال کے طور پر جب بچہ دو تین سال کا ہوتا ہے تو اس وقت اسے عام طور پر جو کہانیاں سنائی جاتی ہیں وہ اس طرح شروع ہوتی ہیں:

Category: Uncategorized

Description

شاہین کا جہاں اور

ستاروں سے آگے

اپنی دنیا آپ پیدا کر

 

کہانیاں انسانی زندگی میں، انسان کی شخصیت سازی میں، کردار سازی میں اور مستقبل کو بگاڑنے یا بنانے میں نمایاں کردار ادا کرتی ہیں۔ بچپن سے لے کر لڑکپن تک مختلف النوع کہانیاں مختلف افراد، اداروں، کتابوں اور بعض دوسرے ذرائع سے ہم تک پہنچتی ہیں۔ہر کہانی اپنے اندر ایک خاص مقصد اور ایک خاص سبق رکھتی ہے۔ اکثر اوقات یہ کہانیاں کسی خاص وقت یا عمر کیلئے مؤثر ہوتی ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ان کا اثراور کردار بظاہر معدوم ہو جاتا ہے مگر ہماری شخصیت کی بنیادوں میں یہ کہانیاں ٹھوس وجود رکھتی ہیں۔ مثال کے طور پر جب بچہ دو تین سال کا ہوتا ہے تو اس وقت اسے عام طور پر جو کہانیاں سنائی جاتی ہیں وہ اس طرح شروع ہوتی ہیں:

ایک بچہ تھا اور وہ ماں باپ کا بہت فرمانبردار تھا (اس کہانی کا آغاز فرمانبردار بچے سے اس لیے کیا گیاکیونکہ ماں باپ اپنے بچے کو اپنا فرمانبردار دیکھنا   چاہتے تھے) ۔ کہانی آگے چلتی ہے، فرمانبردار بچہ کسی نابینا کو سڑک پار کرواتا ہے یا کسی بھوکے کو کھانا کھلاتا ہے تو ایک پری نمودار ہوتی ہے؛ جس کے ہاتھ میں جادو کی چھڑی ہوتی ہے۔ وہ بچے کو خوش ہو کر انعام کے طور پر خوبصورت تاج، کھلونے اور کھانے پینے کی اشیاء عطا کرتی ہے ( یعنی اس کہانی کے ذریعے جہاں بچے کو فرمانبرداری کا درس دیا گیا وہاں بچے کو نیکی کی تلقین اور اس کے نتیجے میں ملنے والے انعام کا مژدہ بھی سنایا گیا)۔

اب بچہ تھوڑا بڑا ہوگیا اُسکی ہر جائز و ناجائز خواہش کو پورا کرنا بعض اوقات والدین کے بس میں نہیں ہوتا اور بعض اوقات خود بچے کے مفاد میں بھی نہیں ہوتا۔ اب بچے کو اپنی تمام تر خواہشات کی تکمیل کیلئے کسی اُمید کی ضرورت تھی۔ لہٰذا الہٰ دین کے چراغ کی کہانی تراشی گئی؛ جو بچے کو یہ اُمید دلاتی ہے کہ شاید مجھے بھی کبھی وہ جادوئی چراغ مل جائے جس کے رگڑنے سے ایک جن حاضر ہو اور وہ میری جائزو ناجائز خواہشات کو پورا کر دے۔

بچہ تھوڑا اور بڑا ہوا تو اُس کے تخیل و تصور کو مہمیز کرنے کیلئے اُڑنے والے قالین کی کہانی بنائی گئی۔ بلوغت کی منزلیں طے کرتا ہوا بچہ جب زیادہ شرارتی ہوا تو اُسے قدم قدم پر روک ٹوک اور ڈانٹ ڈپٹ کا سامنا کرنا پڑا۔اب بچے کو ایک ایسی راہِ فرار درکار تھی کہ وہ دل کھول کر شرارتیں کرے اور اُسے کوئی روکنے ٹوکنے والا نہ ہو تو کہانیوں میں سلیمانی انگوٹھی یا سلیمانی ٹوپی والی کہانی کا اضافہ ہوگیا، جسے پہن کر بچہ نظروں سے اُوجھل ہوسکتا تھا۔ اُس کے بعد تھوڑا اور بڑا ہو کر جب بچہ شعور کی منزلوں پر قدم رکھتا ہے تو اس میںاحساس ملکیت پیدا ہوتا ہے اور بچے آپس میں لڑنا جھگڑنا شروع کرتے ہیں۔

تب ہمارے لڑیچر میں وہ کہانی در آتی ہے جو ہمیں سبق سکھاتی ہےاتفاق میں برکت ہے ۔ عمر کی چند منزلیں اور طے کرنے کے بعد بچہ معاشرے   سے جھوٹ بولنا سیکھ لیتا ہے۔ اسے جھوٹ سے روکنے اور سچائی کی طرف راغب کرنے کیلئے ’’شیر آیا… شیر آیا‘‘ والی کہانی سنائی جاتی ہے۔

اب بچہ نسبتاً پختہ شعور کا مالک ہوچکا ہوتا ہے۔ اُسے احساس ہو جاتا ہے کہ ایسی کوئی پری نہیں جو جادو کی چھڑی ہلائے اور تمام کام ہو جائے؛ ایسا کوئی جادوئی چراغ نہیں جس کے رگڑنے سے تمام آسائشات حاصل ہو جائیں۔ دنیا کی ایک ٹھوس حقیقت مال و دولت اور سرمایہ ہے جس سے تمام آسائشات خریدی جا سکتی ہیں لہٰذا اب لڑیچر میں ایسی کہانی در آئی کہ تین دوست سفر پر جا رہے تھے اور راستے میں انہیں ایک صندوق پڑا ملا۔ صندوق کو کھول کر دیکھا تو وہ اشرفیوں اور زر و جواہر سے بھرا ہوا تھا…… وغیرہ وغیرہ۔

لیکن کچھ ہی عرصے بعد اس بچے کو اندازہ ہو جاتا ہے کہ مال و دولت اور آسائشات راہ چلتے نہیں ملا کرتے۔ ان کیلئے کوشش اور جدوجہد کرنا پڑتی ہے۔ اب کہانی میں یوں تبدیلی آتی ہے:

تین دوست کہیں جا رہے تھے کہ انہیں راستے میں خزانے کا نقشہ ملتا ہے۔ خزانے کی تلاش میں تینوں دوست سفر کا آغاز کرتے ہیں۔ راستے میں  پہاڑ، دریا، صحرا، جنگل آتے ہیں؛ جنگلی جانوروں کا مقابلہ کرنا پڑتا ہے۔ مصائب و مشکلات سے نپٹنا پڑتا ہے۔ راستے کی صعوبتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے تب کہیں جا کر وہ خزانے تک پہنچتے ہیں۔ وہاں جا کر وہ دیکھتے ہیں کہ خزانے پرایک سانپ پھن پھیلائے بیٹھا ہے۔ اب تینوں دوست مل کر ہمت و تدبیر سے اس سانپ کا خاتمہ کرتے ہیں اور خزانہ حاصل کرکے ہنسی خوشی زندگی بسر کرنے لگتے ہیں۔

اس کہانی سے بچے کو یہ درس دیا گیا کہ زندگی کے انعامات و آسائشات کو حاصل کرنے کیلئے مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ سفر کی صعوبتوں کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ بچے کو ٹیم ورک یعنی اجتماعی عمل کی افادیت کا درس دیا جاتا ہے اور آخر میں یہ بتایا جاتا ہے کہ اگر آپ کے حصے کی آسائشات و انعامات پر کوئی سانپ بن کر بیٹھا ہو تو اس موذی کو کچل کر اپنا حق وصول کر لینا چاہیے۔ یہ کہانی آغاز سے لے کر اختتام تک مسلسل جدوجہد کا درس دیتی ہے۔

بدقسمتی یہ ہے کہ جوں جوں بچہ بڑا ہوتاگیامعاشرے میں موجود نفرت، کینہ، لالچ، حسد، بغض اور اسی طرح کے دیگر عیب اس میں بھی پیدا ہوتے چلے گئے۔ اب ایسی کہانیاں سامنے لائی گئیں جو برائیوں سے بچنے کا درس دیتی ہیں، مثلاً ’’لالچ بُری بلا ہے‘‘ ، ’’جیسا کرو گے ویسا بھرو گے‘‘ اور ایسی کہانیاں جس کا نتیجہ ’’اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت‘‘ بتایا گیا۔

مستقل مزاجی کا درس دینے کیلئے کچھوے اور خرگوش کی کہانی نصاب میں شامل کی گئی اور اسی طرح کی کچھ اور کہانیاں آپ کے ذہن میں خودبخود تازہ ہوگئی ہوں گی۔ اگر بہ نظرغائر ان کہانیوں کا اوران کی ترتیب کا جائزہ لیا جائے تو ہمیں یہ اندازہ ہوتا ہے کہ یہ کہانیاں جس خاص عمر کے تقاضوں کو سامنے رکھ کر بنائی گئی تھیں، انہیں یہ بہت حد تک پورا بھی کرتی تھیں۔لیکن بد قسمتی یہ ہوئی کہ جیسے ہی ہم نے لڑکپن کی حدود کو چھوڑا اور نوجوانی کی حدود میں قدم رکھا تو ہمیں اندازہ ہوا کہ زندگی بہت تلخ ہے۔ کہانیاں کچھ بتاتی ہیں اور عملی زندگی کے تقاضے کچھ اور ہیں۔

ہمارے نوجوانی، جوانی ، ادھیڑ عمری اور بڑھاپے کے تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے یا تو کہانیاں تخلیق ہی نہیں کی گئیں اور اگر کی گئیں تو وہ اتنی قلیل تھیں کہ وہ ہم میں سے اکثر تک پہنچ ہی نہ پائیں۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہماری زندگی سے اخلاقی و سماجی اقدار، امید، جوش، ولولہ اور اس طرح کے دوسرے جذبات کم ہوتے چلے گئے۔ آگے بڑھنے کی مسلسل جدوجہد اور اچھے کام کرنے کی لگن ماند پڑتی چلی گئی۔

اس لئے میرے نزدیک یہ بے حد ضروری ہے کہ نوجوانوں ، جوانوں، ادھیڑعمروں اور بوڑھوں کی عمر اور اُس کے تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے کہانیاں تخلیق کی جائیں یاتلاش کی جائیں اور انہیں عام کیا جائے تاکہ ہماری زندگی سے جوش و ولولہ، لگن اور جدوجہد کا جذبہ ماند نہ پڑنے پائے۔یہ کتب اسی سلسلے کی کڑیاں ہے۔

اس کے علاوہ یہ بات بھی ملحوظِ خاطر رکھنے کی ہے کہ کسی بھی قوم کی ترقی و تنزلی، عروج و زوال یا تعمیر و تخریب میں اس قوم میں موجود لٹریچر (ادب) کا بہت ہاتھ ہوتا ہے۔ ان میں مستعمل ضرب الامثال، محاوروں اور کہانیوں سے اس قوم کے مزاج اورمستقبل کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ کسی قوم کو تباہ کرنا ہو تو اس کے لٹریچر میں مایوس کن الفاظ، نا اُمیدی پھیلانے والے محاورے اور بے عملی کا درس دینے والی کہانیوں کو عام کر دیا جائے۔ قوت و حرکت کا درس دینے کی بجائے بے عملی اور ناچ گانے کو عام کر دیا جائے ۔

بقول اقبال

بہتر ہے کہ شیروں کو سکھا دیں رمِ آہو

باقی نہ رہے شیر کی شیری کا فسانہ

اگر اجتماعی زندگی کی بجائے انفرادی زندگی کو روشن تر بنا کر پیش کیا جائے؛ مسائل کا مردانہ وار سامنا کرنے کی بجائے تصوف کی تاریک گلیوں میں سے گزرتے ہوئے رہبانیت کا درس دیا جائے تو وہ قوم یقینا بہت جلد تباہی سے دوچار ہو جائے گی۔ جبکہ اس کے برعکس کسی قوم کو ترقی کی شاہراہ پر گامزن کرنے کیلئے اس کے لٹریچر میں قوت، حرکت و حرارت کا درس دینے والی کہانیوں، محاوروں اور ضرب الامثال کو عام کیا جاناچاہیے۔

اداکار، گلوکار، موسیقار یا کھلاڑیوں کی بجائے اُسامہؓ بن زیدؓ ، طارقؒ بن زیاد، محمدؒ بن قاسم جیسے افراد کو نوجوانوںکی مثالی شخصیت ( رول ماڈل) بنایا جائے۔ تعلیم کے میدان میں ڈارون کی بجائے جابر بن حیان، البیرونی اور ڈاکٹر عبدالقدیر جیسے افراد کو سامنے رکھا جائے۔ اندازِ حکمرانی میں میکاولی یا چانکیہ کے منفی اصولوں پر عمل پیرا ہونے کی بجائے دنیا کی سب سے بڑی سلطنت جو بائیس لاکھ مربع میل کے رقبہ پر پھیلی ہوئی تھی اُس کے حکمران سیدنا حضرت عمر فاروقؓ کے اصولوں کو اپنایا جائے۔ یعنی کسی بھی میدان میںمثالی شخصیت  (رول ماڈل) ان افراد کو بنایا جائے جن کی زندگیاں حقیقی کامیابی کا جیتا جاگتا نمونہ تھیں تو کامیابی اور عروج کی منزل اس قوم سے دور نہ ہوگی۔اسی طرح کہانیوں اور رول ماڈلز کے علاوہ بے بسی، لاچاری اور بے چارگی کا احساس جگانے والی شاعری، ضرب الامثال اور محاورے جو کسی بھی قوم کیلئے سمِ قاتل کا درجہ رکھتے ہیں انہیں جوش و ولولہ سے لبریز کہانیوں اور ضرب الامثال سے بدلنا ہوگا۔

 بقول اقبالؒ

الفاظ و معانی میں تفاوت نہیں لیکن مُلّا کی اذاں اور مجاہد کی اذان اور

  خود قرآن گواہ ہے کہ عمل کرنے وا لے اور جدوجہد سے دنیا کو بدلنے والے ہی معتبر ہیں۔ 

العٰدیٰت اور پھر سورہ عصر میں بھی اس بات کی گواہی دی ہے کہ انسان جب بے عمل اور مایوس ہوتا ہے تب ہی خسارے میں رہتا ہے۔

اٰنشااللہ یہ کتاب آپ کو جدوجہد اور حرکت کا درس دے گی۔ اگر ایک آدمی کی زندگی میں بھی امیدکی شمع روشن ہو گئی تو میں یہ سمجھوں گا کہ مجھے میری محنت کا پھل مل گیا۔ شکریہ۔

Reviews

There are no reviews yet.

Be the first to review “4 Motivational Books pack”

Your email address will not be published. Required fields are marked *

arifsiddiqui